حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے علمی و تحقیقی ورثے کے تحفظ اور محققین کی سہولت کے لیے تہران یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری اور مرکز تحقیقات کمپیوٹری علوم اسلامی (مرکز نور) کے درمیان ایک اہم تعاوناتی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت تہران یونیورسٹی کے ذخیرے میں موجود تقریباً 17 ہزار نایاب مخطوطات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ اور محققین کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری، مرکز اسناد اور علمی وسائل کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین رسول جعفریان نے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران یونیورسٹی کے پاس اسلامی اور علمی مخطوطات کا ایک قیمتی خزانہ موجود ہے، جس تک محققین کی آسان رسائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے ہزاروں نادر قلمی نسخوں کی ڈیجیٹلائزیشن، پروسیسنگ اور تدریجی عوامی فراہمی کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے مرکز نور کی علمی و فنی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ گزشتہ چار دہائیوں سے علمی ڈیٹا کی تنظیم، تحقیقاتی خدمات اور ڈیجیٹل مصنوعات کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے بقول، مرکز نور کی جانب سے نورمگز، نورلائب اور نورڈاک جیسے منصوبے علمی دنیا میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
رسول جعفریان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مشترکہ منصوبہ مستقبل میں عالمِ اسلام کے مخطوطات پر مشتمل ایک مضبوط قومی و بین الاقوامی ڈیجیٹل ذخیرے کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے ایران کے دیگر اہم علمی و ثقافتی مراکز، بشمول قومی کتب خانہ، آستان قدس رضوی اور مجلسِ شورائے اسلامی کے کتب خانے کو بھی اس منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی علوم کی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے اور مرکز نور اس میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں علمی تحقیقات کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس موقع پر مرکز تحقیقات کمپیوٹری علوم اسلامی (مرکز نور) کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمدحسین بہرامی نے کہا کہ اسلامی علوم کے محققین کے لیے اصل مخطوطات تک رسائی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے، اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز نور ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم تشکیل دینے پر کام کر رہا ہے، جہاں مختلف اداروں کے قلمی نسخے ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکز نور نے اس سے قبل مقالات، کتابوں اور جامعاتی مقالہ جات کے لیے جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کیے ہیں۔ "نورڈاک" کے نام سے شروع ہونے والا مقالہ جات کا منصوبہ اب تقریباً 20 جامعات اور تحقیقی اداروں کی شمولیت کے ساتھ 3 لاکھ کے قریب مقالہ جات پر مشتمل ہو چکا ہے۔
محمد حسین بہرامی نے کہا کہ تہران یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ ایک قومی سطح کے مخطوطات پلیٹ فارم کے قیام کی جانب پہلا اہم قدم ہے، جس کا مقصد صرف تصاویر فراہم کرنا نہیں بلکہ محققین کو جدید سرچ، تجزیاتی اور تحقیقی سہولیات کے ساتھ مؤثر علمی استفادہ کا موقع فراہم کرنا ہے۔









آپ کا تبصرہ